پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کے راستے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ چھیڑے ہوئے ہے۔ ایک نجی ٹیلی ویژن چینل انٹروو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی دہلی افغان سرزمین کو پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
بھارتی حمایت کے الزامات
وزیر دفاع نے مزید دعویٰ کیا کہ پستانی اور افغان طالبان دونوں دھڑوں کو بھارت کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان مؤثر طور پر بھارت کے لیے ایک پراکسی طور پر کام کر رہا، جس سے خطے میں سکیورٹی کے چیلنجز میںافہ ہوا ہے۔
2>پاکستان کا علاقائی استحکام کے لیے موقف
خواجہ آصف نے زور دے کر کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آب کا پڑوسی ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور تعاون پر مبنی تعلقات قائم رکھنا عزم ہے۔ انہوں پاکستان کی پالیسی کو پرامنائے باہمی پر مبنی قرار دیتے ہوئے ملک کو امہ دار پڑوسی اور علاقائی ہم آہنگی کے لی پرعزم قرار دیا۔
قومی مفاد ترجیحینے ضرورت
وزیر دفاع ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دینے کیہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا ک وہ وسیع ریاستیاصد کے لیے انفرادی فائدے کو ایک طرف رھیں۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں ج پاکستان کی مغربی سرحد پر سکیورٹی چیلنجز اور کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
فوجی تاری اور ماضی کے تنازعات
ماضی کے تنازعات کا حہ دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکانی فوج نے بھار اقدامات کا مؤثر جواب دیا ہے جس نے مزید جارحیت کو روک دیا ہے۔ انوں نے مز کہا کہ پاکستان کی فوجی تیاری اور ماضی کے نتائج کی روشنی میں بھارت پاکستان کے خلاف کوئی اور حملہ کرنے کا خطرہ مول نہیں لے گا۔>سفارتی کشیدگی میں اضافہ
یہ الزامات دونوں جوہ ہتھیاروں سے لیس پڑوں کے درمیان سفار تبادلوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے افغانستان میں کارروائیوں پر بھارت کے بیان کو “بے بنیاد اور غیر ضروری” قرار دیتےوئے مسترد کر دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تازہانات طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں اثر و رسوخ پر اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کے بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔

